اردو غزل۔ شاعرہ نیلم بھٹی

ایک غزل ❣️

درد کی اس طرح دوا کی ہے
آپ کی بے رخی شفا کی ہے

آرزو کی ہے اس کے دامن کی
جانتے بوجھتے خطا کی ہے

دل دیا ہے ، نہیں کیا سودا
تیری ہر کج روی، روا کی ہے

خوش ادائی مرے تکلم کو
تیرے احساس نے عطا کی ہے

تیرے آنے کی اور نہ جانے کی
سامنے بیٹھ کر دعا کی ہے

آنکھ پابند ہے نظارے کی
پیر نے دشت سے وفا کی ہے

اس نے نیلمؔ سے آخری خط میں
بھول جانے کی التجا کی ہے

نیلم بھٹی

اپنا تبصرہ بھیجیں