افغانستان پر طالبان کے کنٹرول میں پاکستان کا کتنا ہاتھ؟

پاکستان پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے میں اس نے طالبان کا ساتھ دیا اور یہ کہ اگر اسلام آباد طالبان کی پشت پناہی نہ کرتا تو آج وہ طاقت میں نہ ہوتے۔

اس کے علاوہ پاکستان پر ماضی کی طرح یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے طالبان کو محفوظ ٹھکانے، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی۔ مگر ان الزامات میں کتنی صداقت ہے؟ 

انڈپینڈنٹ اردو نے ان سطور میں ان الزامات کا جائزہ لیا ہے اور زمینی حقائق کے تناظر میں ان کی سچائی جاننے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان نے طالبان کو محفوظ ٹھکانے دیے؟ 

ماضی قریب میں نظر دوڑائی جائے اور افغانستان اور پاکستان کی عمومی صورت حال کو دیکھا جائے تو حالات اس الزام کے برعکس نظر آتے ہیں۔ 

امریکی فوج کے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیر (سیگار) کی نو جنوری 2019 کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ افغانستان کے صرف 54 اضلاع پر افغان حکومت کا کنٹرول ہے اور بتدریج ایسے اضلاع کی تعداد میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔

سیگار کی یہ رپورٹ ہر تین مہینے بعد امریکی کانگریس کو پیش کی جاتی ہے۔ 

اس کے علاوہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جنوری 2018 کی ایک اور رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقوں میں فعال ہیں۔ 

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اگر طالبان افغانستان میں اُس وقت ایک بڑے علاقے پر اپنا کنٹرول جمائے ہوئے تھے اور وہاں ان کی حکومت تھی تو پھر انہیں کسی اور ملک میں محفوظ ٹھکانے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ 

پاکستان نے محفوظ ٹھکانے ختم نہیں کیے؟ 

امریکہ نے پاکستان میں 2004 سے لے کر 2015 تک تواتر سے ڈرون حملے کیے اور یہ حملے سابق قبائلی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی ہوئے۔

اس عرصے میں 430 سے زائد ڈرون حملے ہوئے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان میں طالبان کے محفوظ ٹھکانے موجود تھے تو امریکہ کے پاس صلاحیت تھی کہ ڈرونز کے ذریعے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا۔ 

پاکستان نے طالبان کو اسلحہ فراہم کیا؟ 

پاکستان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کو اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس الزام کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی فوج کی مالی استطاعت کا موازنہ افغان فوج کو ملنے والے امریکی رقوم سے کیا جائے۔ 

امریکہ نے 2002 سے 2021 تک 83 ارب ڈالرز افغانستان کی سکیورٹی فورسز پر خرچ کیے جب کہ اگر یہی رقم آپ پاکستانی فوج کے حوالے سے دیکھیں تو یہ تقریباً پاکستان کے گذشتہ 10 سالوں کے دفاعی بجٹ کے برابر ہے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج نے 20 سالوں میں متعدد آپریشنز اور بھارتی سرحد پر بھی نظر رکھی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مدد فراہم بھی کی گئی ہوگی تو وہ امریکی امداد کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہی ہو سکتی ہے۔ 

طالبان کا افغان اضلاع پر کنٹرول

رواں سال جب طالبان نے مختلف اضلاع کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کیا تو انہوں نے اس سلسلے کا آغاز پاکستان کی بجائے ایران سے ملحقہ سرحد کے اضلاع سے کیا۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر طالبان نے ان اضلاع کا کںٹرول پاکستان کی مدد سے حاصل کیا تو سب سے پہلے پاکستانی سرحد سے ملحق علاقے طالبان کے کنٹرول میں آتے۔ 

یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کا طالبان پر اتنا اثرورسوخ ہے تو وہ بذریعہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پاکستان میں کارروائیوں کو کیوں نہیں رکوا سکتا؟

یہ بھی واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر نے حالیہ واقعات کے بعد ایک بار پھر سے افغان طالبان کی بیعت کی ہے۔






#افغانستان #پر #طالبان #کے #کنٹرول #میں #پاکستان #کا #کتنا #ہاتھ

اپنا تبصرہ بھیجیں