حمدِ باری تعالٰی۔شاعر عاکف غنی


یہ زمیں تیری ، آسماں تیرا
سارا گردش کناں جہاں تیرا
تیری تسبیح مل کے کرتے ہیں
یہ ترے گل ، یہ گلستاں تیرا
کہکشائیں نشانیاں تیری
ذرہ ذرہ ہے ترجماں تیرا
شکر مجھ سے ادا نہ ہو پائے
فضل مجھ پر ہے بے کراں تیرا
یاد کرتا ہے بس تجھے یا رب!
وقتِ مشکل یہ خوِش گماں تیرا
میری ڈھارس بندھائے رکھتا ہے
خاص لطف و کرم یہاں تیرا
حوصلہ دے رہا ہے جینے کا
نت نیا روز امتحاں تیرا

عاکف غنی
پیرس (فرانس)

اپنا تبصرہ بھیجیں