خالد اعزاز نیا کلام

کھُلی فضاؤں میں رہنے کو پَر تو مارے تھے

جو لائے پنجرے میں صیّاد کے اشارے تھے

چُبھی ہیں آنکھ میں کیا کیا عذاب تعبیریں

کسی خیال کی لذّت پہ خواب وارے تھے

کسی کی جیت کا پہلا قدم مُقَدَّم تھا

سو جان بوجھ کے ہم اپنی جان ہارے تھے

تھی گیسوؤں میں کوئی شام ،جھیل آنکھوں میں

شَفَق لبوں پہ ، جبیں پر تری ستارے تھے

جو ناخدا نے کیا اہتمام ڈوبنے کا

تو غرقِ حیرت و عبرت وہاں کنارے تھے

سُکوں نہ پایا وہ اعزاز تھا جو صحرا میں

اگر چہ چند ہی لمحے وہاں گزارے تھے

(خالداعزاز)

اپنا تبصرہ بھیجیں