فوجداری قوانین میں اہم ترامیم کی سفارش –

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے فوجداری قوانین میں اصلاحات کے لیے وزیراعظم عمران خان کو تجاویز ارسال کردیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق فروغ نسیم نے ہفتے کے روز فوجداری قوانین میں اصلاحات کے لیے وزیراعظم کو خط ارسال کیا، جس کے ذریعے مجوزہ ترامیم پرمشتمل جامع دستاویز وزیراعظم کو بھیجی گئیں ہیں۔

فوجداری قوانین میں 225 مرکزی اور644 ذیلی ترامیم تجویزکی گئی ہیں، جن کا مقصد فوجداری انصاف کے نظام میں مکمل طورپر اصلاحات لانا ہے۔

قوانین میں کوڈ آف کرمنل پروسیجر، پاکستان پینل کوڈ، قانون شہادت، کنٹرول آف نارکوٹکس، ریلوےایکٹ، پاکستان پرزنس رولز، اسلام آبادکیپٹل ٹیریٹری، فرانزک سائنس ایجنسی ایکٹ کو شامل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: خواتین کو وراثت میں حق نہ دینے پر فوجداری مقدمے کا حکم

قوانین میں ترامیم سے متعلق تمام متعلقہ محکموں سےرائےلی گئی اور ترامیم کو تشکیل دیتے وقت قانون و انصاف کمیشن کی متعلقہ رپورٹس کا جائزہ بھی لیا گیا۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ ترامیم بناتےوقت تیز ترین انصاف کی فراہمی کویقینی بنانےکا خاص خیال رکھاگیا ہے۔

وزارتِ قانون کے مطابق ترامیم کامقصد فوجداری انصاف کے نظام میں مکمل طور پر اصلاحات لانا ہے، اگر ان ترامیم کو منظور کرلیا گیا تو فوجداری انصاف کے نظام میں انقلاب آسکتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے ایف آئی آرکا ایک مؤثر اور تیزترین طریقہ کار متعارف ہوگا اور مقدمات کے زیرالتوا ہونےکی تعدادمیں بڑی حدتک کمی آ جائے گی۔

ترامیم کی منظوری کے بعد مقدمات کی پیروی کرنےکے وقت میں بہت حد تک کمی لائی جاسکےگی، مقدمات کو شفاف طریقےسے پایہ تکمیل تک پہنچایاجاسکے گا اور شواہد جمع کرنے میں مزید بہتری و تیزی لائی جاسکے گی۔خط میں کہا گیا ہے کہ ’جدید آلات کے استعمال کو انصاف کی فراہمی کیلئے بروئےکار لایا جاسکےگا‘۔

یہ بھی پڑھیں: فوجداری کے مقدمات نمٹانے کیلئے بڑا فیصلہ ‏

اسے بھی پڑھیں: وزارت قانون کی فوجداری قوانین میں اصلاحات کے لیے وزیر اعظم کو تجاویز

یاد رہے کہ وزیر قانون نے فوجداری قوانین میں اصلاحات کا پہلامسودہ جون میں وزیراعظم عمران خان کو ارسال کیا تھا۔

Comments






#فوجداری #قوانین #میں #اہم #ترامیم #کی #سفارش

اپنا تبصرہ بھیجیں