ٹیپو سلطان کا سفرِ آخرت

• 💎 *ٹیپو سلطان کا سفرِ آخرت* 💎


ڈیوک آف ولنگٹن کی آرمی ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹم فتح کر چکی تھیں۔ مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آ رہا تھا۔
وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر (ٹیپو سلطان) کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پر حملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا۔
اس کی آرمی سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے مجاہدینِ اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے۔ رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اس کے اپنے بے ضمیر درباریوں اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی، اپنا چہرہ شب کی تاریکی میں چھپا لیا تھا۔

اتنے میں چند سپاہی ولنگٹن کے خیمے میں آئے، ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ انہوں نے اسے ٹیپو سلطان کی شہادت اور اس کی نعش برآمد ہونے کی اطلاع دی۔ یہ نعش سلطان کے وفاداروں کے ڈھیر کے نیچے دبی ملی۔ جنرل ولنگٹن خوشی سے حواس باختہ ہو کر سلطان کی نعش کے پاس پہنچا، تو وہ نعش وفاداروں کے جمگھٹ میں ایسی پڑی تھی جیسے بُجھی ہوئی شمع اپنے گرد جل کر مرنے والے پروانوں کے ہجوم میں ہو۔ جنرل نے سلطان کے ہاتھ میں دبی اس کی تلوار سے اسے پہچان کر اس کی شناخت کی۔ یہ تلوار آخر وقت تک سلطان ٹیپو کے فولادی پنجے سے چھڑائی نہ جا سکی۔
اس موقع پر جنرل نے ایک بہادر سپاہی کی طرح شیر میسور کو سلیوٹ کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اب کوئی طاقت ہماری راہ نہیں روک سکتی۔“ اور اس کی نعش اندر محل کے زنان خانے میں بھجوائی تاکہ اہلخانہ اس کا آخری دیدار کریں۔ اس کے ساتھ ہی آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا۔ جب سلطان کی قبر کھودی جانے لگی تو آسمان کا سینہ بھی شق ہو گیا اور چاروں طرف غیض و غضب کے آثار نمودار ہوئے۔ بجلی کے کوندے لپک لپک کر آسمان کے غضب کا اظہار کر رہے تھے۔ اس وقت غلام علی لنگڑا، اور دیوان پورنیا جیسے غدارانِ وطن خوف اور دہشت دل میں چھپائے سلطان کی موت کی خوشی میں انگریز افسروں کے ساتھ فتح کے جام لنڈھا رہے تھے، اور ان کے چہروں پر غداری کی سیاہی پھٹکار بن کر برس رہی تھی۔
جوں ہی قبر مکمل ہوئی، لحد بن گئی تو آسمان پھٹ پڑا اور سلطان میسور کی شہادت کے غم میں برسات کی شکل میں آنسوﺅں کا سمندر بہہ پڑا۔ قبر پر شامیانہ تانا گیا محل سے لیکر قبر تک جنرل ولنگٹن کے حکم پر سلطان میسور کا جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لایا گیا۔ فوجیوں کے دو رویہ قطار نے کھڑے ہو کر ہندوستان کے آخری عظیم مجاہد، بہادر جنرل اور سپوت کے جنازے کو سلامی دی۔ میسور کے گلی کوچوں سے نالہ و آہ شیون بلند ہو رہا تھا۔ ہر مذہب کے ماننے والے لاکھوں شہری اپنے عظیم مہربان سلطان کیلئے ماتم کر رہے تھے اور آسمان بھی ان کے غم میں رو رہا تھا۔ جنرل ولنگٹن کے سپاہ نے آخری سلامی کے راؤنڈ فائر کئے اور میسور کی سرزمین نے اپنے ایک عظیم سعادت مند اور محبِ وطن فرزند کو اپنی آغوش میں ایک مادر مہربان کی طرح سمیٹ لیا۔
اس موقع پر سلطان کے معصوم چہرے پر ایک ابدی فاتحانہ مسکراہٹ نور بن کر چمک رہی تھی۔ آج بھی ہندوستان کے ہزاروں باسی روزانہ اس عظیم مجاہد کی قبر پر بلا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے حاضر ہو کر سلامی دیتے ہیں۔

اب ننگ ملت غدار کے انجام کا بھی کچھ تذکرہ ہو جائے۔

غدار میر صادق کے باپ کا نام میر علی نقی تھا، اور خالصتأ عجمی النسل تھا۔
جب میرصادق ٹیپو سلطان کی راہ واپسی مسدود کر کے خود راہ فرار اختیار کرنے لگا تو قادر خان نامی ایک پٹھان مجاہد نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا اور لعنت ملامت کرتے ہوئے اس سے کہا،
”اے ملعون تو شاہ دین پناہ کو دشمنوں کے حوالہ کر کے اپنی جان سلامت لے جانا چاہتا ہے، لے اب تیرے کئے کا پھل تجھے چکھائے دیتا ہوں۔”

یہ کہہ کر اس پٹھان مرد نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ غدار گھوڑے پر سے چکرا کر گر پڑا۔ اسی وقت لوگوں نے ہجوم کر کے اس کو مار مار کر قیمہ کر دیا۔ لاش اس کی چار دن بعد قلعے کے دروازے پر بے کفن، دفن کی گئی۔
اور غداری کی عبرت ناک سزا ایسے دی کہ شہر کے لوگ آتے جاتے قصداً اس کی قبر پر تھوکتے ، پیشاب کرتے اور ڈھیر کی ڈھیر پرانی جوتیاں ڈالتے۔“


_سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں_
_ایک بار درودشریف پڑھنے سے_
_ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتے ہے_



•┈┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈•

• 💎 ٹیپو سلطان کا سفرِ آخرت 💎

ڈیوک آف ولنگٹن کی آرمی ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹم فتح کر چکی تھیں۔ مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آ رہا تھا۔
وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر (ٹیپو سلطان) کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پر حملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا۔
اس کی آرمی سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے مجاہدینِ اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے۔ رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اس کے اپنے بے ضمیر درباریوں اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی، اپنا چہرہ شب کی تاریکی میں چھپا لیا تھا۔

اتنے میں چند سپاہی ولنگٹن کے خیمے میں آئے، ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ انہوں نے اسے ٹیپو سلطان کی شہادت اور اس کی نعش برآمد ہونے کی اطلاع دی۔ یہ نعش سلطان کے وفاداروں کے ڈھیر کے نیچے دبی ملی۔ جنرل ولنگٹن خوشی سے حواس باختہ ہو کر سلطان کی نعش کے پاس پہنچا، تو وہ نعش وفاداروں کے جمگھٹ میں ایسی پڑی تھی جیسے بُجھی ہوئی شمع اپنے گرد جل کر مرنے والے پروانوں کے ہجوم میں ہو۔ جنرل نے سلطان کے ہاتھ میں دبی اس کی تلوار سے اسے پہچان کر اس کی شناخت کی۔ یہ تلوار آخر وقت تک سلطان ٹیپو کے فولادی پنجے سے چھڑائی نہ جا سکی۔
اس موقع پر جنرل نے ایک بہادر سپاہی کی طرح شیر میسور کو سلیوٹ کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اب کوئی طاقت ہماری راہ نہیں روک سکتی۔“ اور اس کی نعش اندر محل کے زنان خانے میں بھجوائی تاکہ اہلخانہ اس کا آخری دیدار کریں۔ اس کے ساتھ ہی آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا۔ جب سلطان کی قبر کھودی جانے لگی تو آسمان کا سینہ بھی شق ہو گیا اور چاروں طرف غیض و غضب کے آثار نمودار ہوئے۔ بجلی کے کوندے لپک لپک کر آسمان کے غضب کا اظہار کر رہے تھے۔ اس وقت غلام علی لنگڑا، اور دیوان پورنیا جیسے غدارانِ وطن خوف اور دہشت دل میں چھپائے سلطان کی موت کی خوشی میں انگریز افسروں کے ساتھ فتح کے جام لنڈھا رہے تھے، اور ان کے چہروں پر غداری کی سیاہی پھٹکار بن کر برس رہی تھی۔
جوں ہی قبر مکمل ہوئی، لحد بن گئی تو آسمان پھٹ پڑا اور سلطان میسور کی شہادت کے غم میں برسات کی شکل میں آنسوﺅں کا سمندر بہہ پڑا۔ قبر پر شامیانہ تانا گیا محل سے لیکر قبر تک جنرل ولنگٹن کے حکم پر سلطان میسور کا جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لایا گیا۔ فوجیوں کے دو رویہ قطار نے کھڑے ہو کر ہندوستان کے آخری عظیم مجاہد، بہادر جنرل اور سپوت کے جنازے کو سلامی دی۔ میسور کے گلی کوچوں سے نالہ و آہ شیون بلند ہو رہا تھا۔ ہر مذہب کے ماننے والے لاکھوں شہری اپنے عظیم مہربان سلطان کیلئے ماتم کر رہے تھے اور آسمان بھی ان کے غم میں رو رہا تھا۔ جنرل ولنگٹن کے سپاہ نے آخری سلامی کے راؤنڈ فائر کئے اور میسور کی سرزمین نے اپنے ایک عظیم سعادت مند اور محبِ وطن فرزند کو اپنی آغوش میں ایک مادر مہربان کی طرح سمیٹ لیا۔
اس موقع پر سلطان کے معصوم چہرے پر ایک ابدی فاتحانہ مسکراہٹ نور بن کر چمک رہی تھی۔ آج بھی ہندوستان کے ہزاروں باسی روزانہ اس عظیم مجاہد کی قبر پر بلا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے حاضر ہو کر سلامی دیتے ہیں۔

اب ننگ ملت غدار کے انجام کا بھی کچھ تذکرہ ہو جائے۔

غدار میر صادق کے باپ کا نام میر علی نقی تھا، اور خالصتأ عجمی النسل تھا۔
جب میرصادق ٹیپو سلطان کی راہ واپسی مسدود کر کے خود راہ فرار اختیار کرنے لگا تو قادر خان نامی ایک پٹھان مجاہد نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا اور لعنت ملامت کرتے ہوئے اس سے کہا،
”اے ملعون تو شاہ دین پناہ کو دشمنوں کے حوالہ کر کے اپنی جان سلامت لے جانا چاہتا ہے، لے اب تیرے کئے کا پھل تجھے چکھائے دیتا ہوں۔”

یہ کہہ کر اس پٹھان مرد نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ غدار گھوڑے پر سے چکرا کر گر پڑا۔ اسی وقت لوگوں نے ہجوم کر کے اس کو مار مار کر قیمہ کر دیا۔ لاش اس کی چار دن بعد قلعے کے دروازے پر بے کفن، دفن کی گئی۔
اور غداری کی عبرت ناک سزا ایسے دی کہ شہر کے لوگ آتے جاتے قصداً اس کی قبر پر تھوکتے ، پیشاب کرتے اور ڈھیر کی ڈھیر پرانی جوتیاں ڈالتے۔“

سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں
ایک بار درودشریف پڑھنے سے
ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتے ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں