پنجابی غزل۔ممتاز احمد ممتاز

ویسے تو، کہاں کہاں نہیں دیکھا۔
دیکھنا تھا جہاں وہاں نہیں دیکھا

اس نے دیکھی ہے خامشی میرے لہجے میں ۔
اس نے میری آنکھوں میں طوفاں نہیں دیکھا۔

انسان کیا نایاب ہو گیا ہے ۔
کچھ دنوں سے انساں نہیں دیکھا۔

تجھے کیا خبر کہ حسن کیا ہے۔
تو نے میرا جانِ جاں نہیں دیکھا۔

اُسکو جو دیکھنا چاہتے ہیں بھلا۔
زمیں نہیں دیکھی آسماں نہیں دیکھا ۔

پوچھتے ہو خدوخال اس کے۔
گلشن نہیں دیکھا گلُستاں نہیں دیکھا ۔

اکڑ کرجو ممتاز چل رہے ہو۔

تیری آنکھوں نے قبرستاں نہیں دیکھا ۔
















اپنا تبصرہ بھیجیں